ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مہادائی مسئلے پر تنازعہ نہیں حل کی ضرورت ہے: سدرامیا

مہادائی مسئلے پر تنازعہ نہیں حل کی ضرورت ہے: سدرامیا

Fri, 14 Oct 2016 15:44:33    S.O. News Service

بنگلورو۔13؍اکتوبر(ایس او نیوز)وزیر اعلیٰ سدرامیا نے توقع ظاہر کی ہے کہ 21؍ اکتوبر کو ممبئی میں مہادائی مسئلہ پر مہاراشٹرا ، کرناٹک اور گوا کے وزرائے اعلیٰ کے درمیان جو میٹنگ ہوگی توقع ہے کہ اس میں کافی حد تک کامیابی مل سکے گی۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ جب تک یہ میٹنگ نہیں ہوجاتی اس معاملے پر بیان بازی نہیں ہونی چاہئے۔ مہادائی ٹریبونل کی ہدایت کے مطابق بات چیت کے ذریعہ اس معاملے کو سلجھانے کیلئے وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔میٹنگ سے پہلے ہی بیان بازی کرکے تنازعہ کو اور الجھانے سے گریز کیاجائے۔ اپنی ہوم آفس کرشنا میں معروف کنڑا روزنامہ وارتا بھارتی کے 14سال کی تکمیل کے سلسلے میں خصوصی ضمیمہ کا اجراء کرنے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ 21؍ اکتوبر کوہونے والی بات چیت وزرائے اعلیٰ کی ہے نہ کہ اپوزیشن لیڈران کی اسی لئے اس مسئلے پر غیر ضروری بیان بازی سے گریز کیاجائے۔ ہوسکے تو ان ریاستوں کے اپوزیشن لیڈران کو ریاست کی مشکلات سے آگاہ کرایا جائے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ کرناٹک کا مقصد یہی ہے کہ تینوں ریاستوں کے عوام کو کسی طرح کی پریشانی نہ ہو۔ پارٹی اختلافات سے بالا تر ہوکر تینوں وزرائے اعلیٰ اسی فکر کو لے کر میٹنگ میں شرکت کریں گے۔ اس معاملے میں ریاستی بی جے پی قائدین کے وفد کی مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ دیوندرا فرنویس سے ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ ان لیڈروں کو گوا کے وزیر اعلیٰ لکشمی کانت پاریکر سے بھی ملاقات کرنی چاہئے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ کسی بھی ریاست کو درپیش بین ریاستی تنازعہ کو سلجھانے کیلئے ہونے والی کسی بھی پہل پر اتفاق رائے قائم کرنے کیلئے کل جماعتی اجلاس کا اہتمام ایک روایت رہی ہے ، اسی روایت کو پورا کرنے کے مقصد سے انہوں نے 19 اکتوبر کو کل جماعتی اجلاس طلب کیا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں سے مشوروں کے بعد ریاست کے موقف کو قطعیت دی جائے گی۔کاویری معاملہ میں بھی جب مرکزی وزیر برائے آبی وسائل اوما بھارتی نے میٹنگ طلب کی تو اس سے پہلے ریاست میں کل جماعتی اجلاس طلب کیاگیا ۔ کاویری معاملے پر وزیر اعلیٰ نے کہاکہ مرکزی ٹیم نے کرناٹک اور تملناڈوکا معائنہ کیا ہے، ٹیم کی رپورٹ منظر عام پر آنے سے پہلے ہی یہ تاثر قائم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ کسی بھی ریاست نے ٹیم کو گمراہ کیا ہے۔ٹیم کی رپورٹ پہلے منظر عام پر آنے کا انتظار کیا جائے۔ریاستی حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں قانونی جنگ کی تیاری کررکھی ہے۔ اسمبلی کی رکنیت سے سرینواس پرساد کے استعفیٰ کی خبروں پر تبصرہ کرنے سے سدرامیا نے انکار کیا۔اس موقع پر وارتا بھارتی کے 14سالہ سفر کی تکمیل کے سلسلے میں شائع ضمیمہ کا اجراء کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اخبارات کو غریب ، مظلوم اور سماجی طور پر پسماندہ طبقات کا نمائندہ ہونا چاہئے۔ خبروں کو اقدار اور معیار پر مبنی کرنے کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے کہاکہ سماج میں آنے والی تبدیلیوں کو اپنا کر ہر ایک کو یکساں موقع فراہم ہو یہ یقینی بنانا اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کی اہم ذمہ داری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ الیکٹرانک میڈیا کی کثرت کی وجہ سے اخبارات کی اہم نہیں گھٹی ہے ۔اس موقع پر وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج ، سابق وزیر بی سبیا شٹی ، وارتا بھارتی اخبار کے مدیر عبدالسلام پتیگے، اور دیگر عمائدین موجود تھے۔


Share: